حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے رہنما ایک طرف آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس کی اصل وجہ اپنے ممالک کی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ ان دنوں کشیدگی کم کرنے کی بات کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی جنگ کے اپنی معیشت پر اثرات کا ذکر کرتا ہے تو کوئی ہائیڈروکاربن ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے سنگین نتائج کی بات کرتا ہے۔
آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ برسوں سے ایران اور ان ممالک پر اقتصادی پابندیاں اور دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے جنہوں نے مغرب کی استعماری پالیسیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ایران کے عوام کے خلاف جنگ اور فلسطین و لبنان کے عوام پر کئی دہائیوں سے جاری قبضے اور قتل عام کے دوران مغربی ممالک نے ان مسائل پر توجہ نہیں دی، لیکن جب ان کے اپنے شہریوں کی زندگی کچھ مشکل ہوئی تو مذاکرات اور امن کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
انہوں نے اسے مغرب کے انسانی حقوق کے دوہرے معیار اور مفاد پرستی پر مبنی رویے کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ایرانی بحری جہاز دنا کو غرق کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں جہاز کو قبضے میں لینے کے بجائے غرق کرنے کو زیادہ لطف بخش قرار دیا گیا تھا۔
آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے حکام ہمیشہ منصفانہ اور عادلانہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے رہے ہیں، لیکن ایندھن کی قیمتوں کے خدشات کی وجہ سے ہونے والی امن کی کوششیں قیمتیں بدلنے کے ساتھ اپنا رخ بھی بدل سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ مغربی ممالک اور ان کے علاقائی حامیوں کے ظلم و زیادتی کے مقابلے میں ثابت قدمی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے بقول، امریکی و صہیونی حکمران اور ان کے یورپی حامی طاقت کی زبان کے سوا کسی اور طریقے سے ظلم اور جرائم سے باز نہیں آئیں گے۔










آپ کا تبصرہ